Founder & Main Curator of LOK for LOK LIU GAOLI

我出生在20世纪80年代的北京。一家人生活在革命博物馆家属大院,我青春时代的全部人生都在二环里完成了,算是个非常典型的老北京胡同孩子,30岁之前我生活过得离家最远的就是北京大学。 然后自己也没想到此后竟然就在南亚做田野,在日本留学,离开了北京。
我一直在东亚、南亚的几个国家级民族学人类学博物馆的脉络里汲取着营养。 整个学习、工作生涯都在从事一个跨文化桥梁的工作。作为人类学家,身体力行去理解不同的文化,去感受和阐释;作为翻译,去连接源语言和目标语言以及他们背后的文化;作为博物馆研究员和策展人,我用公共空间去连接讲故事的人和听故事的人,让大家都成为参与者。在跨文化交流的过程中,我认为作为个体的人的姿态是柔软的,流动的。
2025年,国际博协迪拜大会的准备过程中,我作为大会主要起草委员,领导我的小组起草了国际博协第一份有关博物馆技术的议案,我期待它在2025年底最终通过审议并成立。同时,我被选为新一届国际博协视听、新技术及社交媒体委员会秘书长,这是这个伴随着新媒体技术成立的,有着34年历史的国际协会第一次有亚洲人成为执行理事。我在这些博物馆的活动中结识了很多专家学者和有趣的朋友,受益匪浅。我衷心希望能通过我的努力,把国际博物馆的活动更多带到亚洲,带到我的祖国。
筹建这个电子策展、讲述个人故事的网站得益于一个国际博协培训中心的项目,致力于探索“以博物馆为桥梁的文化沟通”。期待这个理念在新的媒介与形式中不断延伸与实现。
Member of the ICOM Resolutions Committee, Researcher and Curator, National Ainu Museum; General Secretary, ICOM-AVICOM
I was born in the center of Beijing and raised in a hostel for the staff of a national museum, surrounded by curators, researchers, and cultural workers. Growing up in this unique environment along Beijing’s Central Axis, today a UNESCO World Heritage site instilled in me a deep sensitivity to people, heritage, and culture.
Although my undergraduate major was in English, French, and International Trade, I became increasingly drawn to Asian cultures. This interest led me to shift my focus to South Asian Studies at Peking University, where I also pursued a second master’s degree in International Human Rights Law through a joint program with Lund University. My decision was inspired by my volunteer work with LGBTQ+ communities in Beijing. Since 2011, I have conducted long-term fieldwork in Pakistan, where I interned at both national and private museums and contributed to curatorial projects involving media productions, heritage festivals, and puppet exhibitions.
My doctoral research at Kyoto University centered on the Khawaja Sara tradition in Pakistan, focusing on gender rights, land property, and cultural expression. I produced two documentaries and hosted a 16-episode national television series on Pakistan’s cultural traditions and minority communities, which brought ethnographic perspectives to a wide audience.(https://www.youtube.com/watch?v=rtSDMQfIjl0)
In 2020, I became a founding staff member of the National Ainu Museum in Japan, joining the exhibition division and contributing to all major exhibitions. Alongside my institutional work, I supported smaller local museums in curating exhibitions and developed independent curatorial projects. I also began another doctoral research in Indigenous Museology at Hokkaido University, focusing on how ethnographic content can be mediated through digital curation, exploring the balance between management priorities, curatorial interests, and participatory visitor engagement.
I am actively engaged in international professional networks. I serve as a member of the Resolutions Committee for the 2025 ICOM General Conference. I am also the first Asian museum professional to serve as an Executive Board member of this 34-year-old international committee, which focuses on audiovisuals, new technologies, and social media in museums.
I may carry many labels, anthropologist, museum professional, researcher, LGBT volunteer, documentary maker, flute player, detective story lover…but I do not believe a single tag can define anyone. What I love to be called is a life practitioner: bridging people and cultures, telling stories, and learning through encounters.
1980年代の北京に生まれ、国立博物館の職員宿舎で育ちました。幼い頃から研究者や学芸員、文化関係者に囲まれた環境で過ごし、現在ユネスコ世界遺産にも登録されている「北京中軸線」の一角で、人・文化・遺産への感受性を育みました。
大学では英語・フランス語・国際貿易を専攻しましたが、次第にアジアの文化に強く惹かれるようになりました。北京大学で南アジア地域研究を学び、さらにスウェーデンのルンド大学との共同プログラムにより、国際人権法の修士課程を修了しました。北京でLGBT支援のボランティア活動に携わった経験が、私の進路を決定づける転機となりました。
2011年以降、パキスタンを中心に長期的なフィールドワークを行い、国立・私立の博物館での研修や、映像制作、文化祭など多様な企画に携わってきました。京都大学では「カワジャ・サラー(Khawaja Sara)」の伝統を題材に、ジェンダーの権利、土地所有、文化表現をめぐる博士研究を進めました。また、少数民族や文化遺産をテーマとしたドキュメンタリー映像を制作し、パキスタンの文化とコミュニティを紹介する全16回のテレビシリーズに出演しました。
2020年から、研究員として国立アイヌ民族博物館に勤務し、開館以来すべての展示に関わっています。また、北海道大学で先住民ミュージオロジーの博士研究を進め、民族学的コンテンツをデジタル・キュレーションによっていかに媒介できるかを探究しています。館の運営方針とキュレーターの創造性、そして来館者参加の関係性を重視しながら、「語り合う場」としての博物館の再構築を目指しています。
現在、国際博物館会議(ICOM)2025年ドバイ大会の起草委員会の執行委員として活動し、同時に視聴覚・新技術・ソーシャルメディア委員会(AVICOM)の事務総長を務めています。AVICOMは34年の歴史をもつ国際委員会であり、アジア出身者が執行委員として就任するのは初めてのことです。こうした国際的な活動を通じて、多くの専門家や友人と出会い、多様な視点から学ぶ機会を得てきました。今後もアジア、そして世界各地へと、ミュージアムを媒介とした文化交流の輪を広げていきたいと考えています。
このウェブサイト「LOK for LOK」は、国際博物館会議のデジタルリーダー育成プログラムを契機に立ち上げた、電子キュレーションと個人の物語をつなぐプロジェクトです。「博物館を架け橋として文化をつなぐ」という理念のもと、さまざまなメディアや形式を通じてその実践を続けていきます。
人類学者であり、博物館学研究者であり、LGBT支援のボランティアであり、映像制作者、笛奏者、そして推理小説愛好家でもあります。しかし、どんな肩書きも私という存在をすべて語ることはできません。40カ国を周り、大切にしているのは、「生を実践する人(life practitioner)」として、人と文化をつなぎ、物語を語り、出会いの中で学び続けることです。
السلام علیکم۔
میرا نام زہرا ہے۔ میں بیجنگ کے قلب میں پیدا ہوئی اور چین کے نیشنل میوزیم کے عملے کے ہاسٹل میں پلی بڑھی۔ بچپن سے ہی محققین، کیوریٹروں اور ثقافتی کارکنوں کے درمیان رہنے کی وجہ سے میرے اندر لوگوں، ورثے اور ثقافت کے لیے گہری حساسیت پیدا ہوئی۔
میری ابتدائی تعلیم انگریزی، فرانسیسی اور بین الاقوامی تجارت میں تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ میرا رجحان ایشیائی ثقافتوں کی طرف بڑھتا گیا۔ میں نے بیجنگ یونیورسٹی کے اردو شعبہ میں جنوبی ایشیائی مطالعات میں تخصص حاصل کیا، اور بعد ازاں سویڈن کی لُند یونیورسٹی کے ساتھ مشترکہ پروگرام کے تحت بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون میں دوسرا ماسٹر مکمل کیا۔ بیجنگ میں ایل جی بی ٹی کیو+ کمیونٹی کے ساتھ رضاکارانہ کام نے میری پیشہ ورانہ زندگی کا رخ بدل دیا۔
۲۰۱۱ سے میں پاکستان میں طویل مدتی فیلڈ ورک کر رہی ہوں۔ میں نے لوک ورثہ میوزیم اور رفی پیر تھیٹر ورکشاپ میں تربیت حاصل کی، اور میڈیا پروڈکشن، ثقافتی میلوں اور پتلی تماشوں سے متعلق مختلف منصوبوں میں حصہ لیا۔ میری تحقیق نے خواجہ سرا برادری کی ثقافتی روایات، زمین کی ملکیت اور شناخت کے پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے، اور میں نے چار دستاویزی فلمیں تیار کی ہیں۔ میں نے افتاب اقبال کے ساتھ اگلا اسٹیشن نامی ۱۶ اقساط پر مشتمل ٹی وی پروگرام کی میزبانی بھی کی، جس میں پاکستان کی ثقافتی روایات اور اقلیتی برادریوں کو وسیع تر ناظرین تک پہنچایا گیا۔
۲۰۲۰ میں میں جاپان کے نیشنل آئنو میوزیم میں بانی عملے کے رکن کے طور پر شامل ہوئی، جہاں میں نے بڑی نمائشوں میں حصہ لیا۔ میں مقامی عجائب گھروں کے ساتھ تعاون جاری رکھتی ہوں اور آزاد کیوریٹوریل منصوبے بھی تیار کرتی ہوں۔ میں ہوکا ئیڈو یونیورسٹی میں Indigenous Museology پر ڈاکٹریٹ کی تحقیق کر رہی ہوں، جس میں میں یہ دریافت کر رہی ہوں کہ ڈیجیٹل کیوریٹوریل طریقے ثقافتی مواد کی نمائندگی اور ترسیل کو کس طرح بہتر بنا سکتے ہیں۔
میں بین الاقوامی سطح پر عجائب گھروں کے پیشہ ور نیٹ ورکس میں سرگرم ہوں۔ میں انٹرنیشنل کونسل آف میوزیمز (ICOM) کی ۲۰۲۵ دبئی کانفرنس کی قرارداد کمیٹی کی رکن ہوں، اور ICOM AVICOM (آڈیو وژوئل، نئی ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کمیٹی) کی جنرل سیکرٹری بھی ہوں۔ یہ ۳۴ سالہ بین الاقوامی کمیٹی کی تاریخ میں پہلی بار ہے کہ کسی ایشیائی ماہر کو ایگزیکٹو ممبر کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔
اس ویب سائٹ کا نام “LOK for LOK” پاکستان کے لیے میری محبت اور شکرگزاری کے اظہار کے طور پر رکھا گیا ہے۔ یہ ایک الیکٹرانک کیوریٹوریل اور ذاتی کہانیوں پر مبنی منصوبہ ہے جو ICOM کی تربیتی اسکیموں سے متاثر ہو کر تشکیل دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد “عجائب گھروں کو ثقافتی مکالمے کا پل بنانا” ہے — کہانیاں، لوگ، اور مقامات آپس میں جوڑنا۔ میں چاہتی ہوں کہ یہ تصور نئی میڈیا اور تخلیقی طریقوں کے ذریعے مزید آگے بڑھے۔
میں اپنے آپ کو صرف ایک ماہرِ بشریات، محقق، یا کیوریٹر کے طور پر نہیں دیکھتی۔ میں خود کو ایک “عملی زندگی کی راہرو” (life practitioner) سمجھتی ہوں — ایک ایسی شخص جو لوگوں اور ثقافتوں کے درمیان پل بناتی ہے، کہانیاں سناتی ہے، اور ہر ملاقات سے کچھ سیکھتی ہے۔

